سردیوں کی سخت ٹھنڈ میں زندگی گزارنا ایک چیلنج سے کم نہیں۔ خاص طور پر جب درجہ حرارت بہت نیچے چلا جائے اور بجلی یا ہیٹنگ کا نظام دستیاب نہ ہو، تو محفوظ رہنا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ ایسے میں صحیح تیاری اور احتیاطی تدابیر اپنانا آپ کی زندگی بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔ میں نے خود کئی بار سرد موسم میں ان طریقوں کو آزمایا ہے اور ان سے فائدہ اٹھایا ہے۔ چاہے آپ دیہی علاقے میں رہتے ہوں یا شہر میں، یہ طریقے آپ کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوں گے۔ تو چلیں، سردی سے بچاؤ کے بہترین طریقے تفصیل سے جان لیتے ہیں!
گھر کو سردی سے بچانے کے جدید اور مؤثر طریقے
دیواروں اور کھڑکیوں کی موصلیت
سردیوں میں گھر کی دیواریں اور کھڑکیاں سب سے زیادہ گرمی کھو دیتی ہیں، خاص طور پر اگر وہ پرانی یا پتلی ہوں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب میں نے اپنے گھر کی کھڑکیوں پر موصلیت چسپاں کی تو اندر کا درجہ حرارت کافی بہتر ہو گیا۔ موصلیت کی مختلف اقسام مارکیٹ میں دستیاب ہیں، جیسے کہ فوم شیٹس، سلکان کے سیلرز اور تھرمل پردے۔ فوم شیٹس خاص طور پر دیواروں پر لگانے کے لیے بہترین ہیں کیونکہ یہ گرمی کو باہر جانے سے روکتے ہیں۔ کھڑکیوں پر تھرمل پردے لگانا بھی ایک آسان اور سستا حل ہے جو سرد ہوا کو اندر آنے سے روک دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، کھڑکیاں اچھی طرح بند رکھنا اور ان کے فریمز کی مرمت کرنا بھی ضروری ہے تاکہ ہوا کا گزر کم سے کم ہو۔
ہیٹنگ سسٹمز کی مناسب دیکھ بھال
اگر آپ کے گھر میں ہیٹنگ سسٹم موجود ہے، تو سردیوں سے پہلے اس کی جانچ اور مرمت کروانا بہت ضروری ہے۔ میں نے اپنی جگہ پر کبھی کبھار ہیٹنگ سسٹم کی ناکامی کی وجہ سے کافی مشکل حالات کا سامنا کیا ہے، اس لیے میں ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتا ہوں کہ ہیٹر یا بوائلر مکمل طور پر ٹھیک چل رہا ہو۔ اس کے علاوہ، ہیٹنگ سسٹم کے فلٹرز کو صاف رکھنا اور گیس یا بجلی کے کنکشن کی جانچ کرنا بھی بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پاس ہیٹنگ کا نظام نہیں ہے تو آپ پورٹیبل ہیٹر یا انڈور کمبل جیسی اشیاء کا استعمال کر سکتے ہیں، جو فوری طور پر جسم کو گرم رکھتی ہیں۔
سردی میں گھر کی ہوا کی گردش کو کنٹرول کرنا
گھر کے اندر ہوا کی گردش کو کنٹرول کرنا بھی بہت اہم ہے تاکہ گرم ہوا اندر رہے اور سرد ہوا باہر رہے۔ میں نے اپنے تجربے سے یہ سیکھا ہے کہ اگر آپ رات کو کمروں کے دروازے بند رکھیں تو حرارت زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے۔ اس کے علاوہ، چھوٹے وینٹیلیشن سوراخ یا ہوا کے راستے جہاں سے سردی آ سکتی ہے، انہیں بند کرنا ضروری ہے۔ بعض گھروں میں ہوا کی گردش کے لیے خاص وینٹیلیٹرز ہوتے ہیں، جنہیں سردی میں بند کرنا چاہیے تاکہ گرم ہوا باہر نہ جائے۔ آپ گھر کے اندر چارپائی یا قالین لگا کر بھی فرش سے آنے والی سردی کو روک سکتے ہیں، کیونکہ نیچے سے ٹھنڈی ہوا زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔
گرم کپڑوں کا انتخاب اور پہننے کے طریقے
مناسب تہہ دار لباس پہننا
سردیوں میں گرم رہنے کے لیے سب سے اہم چیز ہے کہ آپ صحیح تہہ دار لباس پہنیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب میں نے صرف ایک موٹی جیکٹ پہن رکھی تھی تو سردی زیادہ محسوس ہوتی تھی، لیکن جب میں نے اندرونی پرت میں حرارتی کپڑے یا اون کی قمیض پہنی تو فرق واضح تھا۔ تہہ دار لباس جسم کی حرارت کو محفوظ رکھتا ہے اور سرد ہوا کو اندر داخل ہونے سے روکتا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اندر نرمی اور پسینے جذب کرنے والے کپڑے پہنیں، جیسے کاٹن یا تھرمل انڈرویئر، اور باہر موٹے اور ہوا روکنے والے کپڑے جیسے وولن یا نائلون کا استعمال کریں۔
سر، ہاتھ اور پاؤں کی حفاظت
یہ بات اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے کہ سردی میں سب سے زیادہ جسم کی حرارت سر، ہاتھ اور پاؤں سے نکلتی ہے۔ میں نے کئی بار دیکھا ہے کہ اگر میں نے اچھے گرمی بخش دستانے اور موزے نہ پہنے ہوں تو ٹھنڈ زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ سر کے لیے ہیٹ یا ٹوپی پہننا لازمی ہے، خاص طور پر اگر آپ باہر نکل رہے ہوں۔ موزے اور جوتے ایسے ہونے چاہئیں جو نمی جذب نہ کریں اور آپ کے پاؤں کو خشک اور گرم رکھیں۔ ہاتھوں کے لیے دستانے ایسے منتخب کریں جو نہ صرف گرم ہوں بلکہ ہاتھوں کی حرکت میں رکاوٹ بھی نہ ڈالیں، تاکہ کام کرنے میں آسانی رہے۔
گھر میں آرام دہ اور گرم ماحول بنانے کے مشورے
گھر میں زیادہ آرام دہ ماحول بنانے کے لیے میں نے کچھ دلچسپ طریقے اپنائے ہیں، جیسے کہ گرم کمبل استعمال کرنا، اور گرم پانی کی بوتل رکھنا۔ کمبل کے اندر بیٹھنا یا سونا سردی میں بہت سکون دیتا ہے، اور گرم پانی کی بوتل یا حرارتی پیک جلد کو فوری گرمائش فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ کے پاس بجلی کی سہولت محدود ہے تو شمسی توانائی یا بیٹری سے چلنے والے ہیٹر بھی ایک اچھا آپشن ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، گھر کے کمرے میں روشنی کا اچھا انتظام بھی جسمانی حرارت کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے کیونکہ روشنی بھی کچھ حد تک حرارت فراہم کرتی ہے۔
خوراک اور مشروبات جو سردی میں توانائی بڑھائیں
گرم اور غذائیت بخش کھانے
سرد موسم میں جسم کو توانائی دینے کے لیے گرم اور غذائیت سے بھرپور کھانے بہت ضروری ہیں۔ میں نے خود محسوس کیا ہے کہ جب میں نے سردیوں میں صرف ہلکی پھلکی غذا کھائی تو جسم جلدی تھک جاتا تھا، لیکن جب میں نے سالن، دال، اور گوشت زیادہ کھایا تو توانائی برقرار رہی۔ خاص طور پر سوپ اور دال کے سالن سردی میں جسم کو اندر سے گرم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، تازہ سبزیاں اور پھل بھی اہم ہیں کیونکہ یہ جسمانی قوت مدافعت کو بڑھاتے ہیں، جو سردی میں بیمار ہونے سے بچانے میں مددگار ہوتے ہیں۔
گرم مشروبات کا کردار
گرم چائے، کافی یا مسالے دار دودھ کے مشروبات سردی میں سکون پہنچاتے ہیں اور جسم کی حرارت کو بڑھاتے ہیں۔ میں نے اکثر سردیوں میں مسالے دار چائے پینا شروع کیا تو سردی کا احساس کم ہوا۔ خاص طور پر دارچینی، الائچی اور ادرک جیسے مصالحے چائے میں ڈالنے سے نہ صرف ذائقہ بہتر ہوتا ہے بلکہ یہ جسم کو گرم بھی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پانی کی مقدار کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ سردی میں لوگ کم پانی پیتے ہیں جس سے جسم خشک ہو سکتا ہے، اس لیے ہر وقت پانی یا دیگر گرم مشروبات کا استعمال جاری رکھیں۔
سردیوں میں کھانے کی عادات
کھانے کے اوقات اور مقدار پر بھی توجہ دینا ضروری ہے تاکہ جسم کو مناسب توانائی ملے۔ میں نے دیکھا ہے کہ اگر میں نے رات کو بہت دیر سے یا بھاری کھانا کھایا تو نیند میں خلل آتا ہے، اور اگر بہت ہلکا کھایا تو سردی زیادہ لگتی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ دن میں تین مرتبہ متوازن اور گرم کھانا کھائیں اور اگر ضرورت ہو تو درمیانی وقفے سے ہلکی پھلکی غذائیں بھی لیں۔ ناشتے میں گرم چیزیں لینا جیسے اوٹ میل یا انڈے سردی میں توانائی کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں۔
سرد موسم میں جسمانی سرگرمیاں اور ورزش
ہلکی پھلکی ورزش کا فائدہ
سردیوں میں ورزش کرنا تھوڑا مشکل لگتا ہے، لیکن میں نے خود محسوس کیا ہے کہ روزانہ کم از کم 20 سے 30 منٹ کی ہلکی پھلکی ورزش جسم کو گرم رکھنے میں بہت مدد دیتی ہے۔ واک کرنا، گھریلو کام یا ہلکی دوڑ جیسی سرگرمیاں خون کی گردش کو بہتر بناتی ہیں اور جسم کو سردی سے بچاتی ہیں۔ خاص طور پر صبح کے وقت ورزش کرنے سے پورا دن توانائی سے بھرپور گزرتا ہے۔ اگر آپ گھر کے اندر رہ رہے ہیں تو یوگا یا اسٹریچنگ بھی بہت فائدہ مند ہے۔
ورزش کے دوران لباس کی اہمیت
ورزش کے لیے ایسا لباس پہنیں جو پسینہ جذب کرے اور آپ کو گرم رکھے۔ میں نے کئی بار ایسا محسوس کیا ہے کہ اگر میں موٹے کپڑوں میں ورزش کروں تو پسینہ جلدی جم جاتا ہے اور سردی لگ جاتی ہے، اس لیے بہتر ہے کہ تھرمل انڈرویئر یا ہلکے مگر گرم کپڑے پہنیں جو ہوا کو اندر آنے نہ دیں۔ ورزش کے بعد فوری طور پر خشک کپڑے پہننا بھی بہت ضروری ہے تاکہ سردی نہ لگے۔
ورزش اور صحت کے تعلقات
ورزش سے نہ صرف جسم گرم رہتا ہے بلکہ ذہنی صحت بھی بہتر ہوتی ہے، جو سردیوں میں ڈپریشن اور نیند کی خرابیوں سے بچاتی ہے۔ میں نے اپنے ارد گرد دیکھا ہے کہ جو لوگ سردیوں میں بھی ورزش کرتے ہیں ان کی توانائی اور مزاج بہتر رہتا ہے۔ اس کے علاوہ، ورزش قوت مدافعت کو بڑھاتی ہے، جو سردیوں میں بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ہے۔ ورزش کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں شامل کرنا سردیوں کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔
سردی میں پانی کی کمی سے بچاؤ اور صحت کی حفاظت
پانی کی مناسب مقدار کا استعمال
سردیوں میں پانی کم پینا ایک عام مسئلہ ہے کیونکہ لوگ کم پسینہ آنا اور کم پیاس لگنا سمجھتے ہیں کہ پانی کی ضرورت نہیں۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ اگر میں نے سردیوں میں پانی کی مقدار کم رکھی تو جلدی جلد خشک جلد اور تھکن محسوس ہوتی ہے۔ اس لیے چاہیے کہ آپ روزانہ کم از کم 8 گلاس پانی یا گرم مایعات استعمال کریں تاکہ جسم ہائیڈریٹ رہے۔ آپ گرم جوسز یا ہربل ٹی بھی پی سکتے ہیں جو جسم کو اندر سے نمی فراہم کرتے ہیں۔
خشک جلد اور سردی کا تعلق
سرد موسم میں جلد خشک اور کھردری ہو جاتی ہے، جو پانی کی کمی اور سرد ہوا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ میں نے کئی بار اپنے ہاتھوں اور چہرے کی جلد خشک ہونے پر موئسچرائزر کا استعمال کیا ہے، جو بہت فائدہ مند ثابت ہوا۔ آپ کو چاہیے کہ دن میں کئی بار جلد پر موئسچرائزر لگائیں اور نہانے کے بعد جلد کو اچھی طرح خشک کرکے جلدی نمی بحال کریں۔ اس کے علاوہ، گرم پانی سے نہانا جلد کو مزید خشک کر سکتا ہے، اس لیے نیم گرم پانی کا استعمال کریں۔
صحت مند عادات اپنانا
سردیوں میں صحت کی حفاظت کے لیے آپ کو اپنی روزمرہ کی عادات پر توجہ دینی چاہیے۔ میں نے خود یہ سیکھا ہے کہ نیند پوری کرنا، متوازن غذا کھانا، اور ذہنی دباؤ سے بچنا بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، ہاتھوں کی صفائی اور ویکسینیشن بھی سردیوں میں بیمار ہونے سے بچاتی ہے۔ اگر آپ بیمار محسوس کریں تو فوری علاج کروائیں تاکہ بیماری زیادہ نہ پھیلے۔ سردیوں میں صحت مند رہنا مکمل تیاری اور توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔
سردی میں حفاظتی اقدامات اور ہنگامی حالات کی تیاری

ہنگامی کٹس اور ضروری سامان
سردی کے موسم میں ہنگامی حالات کے لیے تیار رہنا بہت اہم ہے۔ میں نے اپنی تجربے سے سیکھا ہے کہ گھر میں ہنگامی کٹ میں شامل ہونا چاہیے: گرم کپڑے، اضافی کمبل، ٹارچ، بیٹریاں، اور بنیادی ادویات۔ اگر بجلی چلی جائے تو یہ سامان بہت کام آتا ہے۔ اس کے علاوہ، کھانے اور پانی کا ذخیرہ بھی ضروری ہے تاکہ چند دنوں تک آپ کا گزارہ ہو سکے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں بجلی کا آنا جانا عام ہے، یہ تیاری زندگی بچانے میں مدد دیتی ہے۔
بچاؤ کے لیے گھریلو تدابیر
اگر آپ کو اچانک سردی میں گھر کے اندر ہی رہنا پڑ جائے تو چند گھریلو تدابیر آپ کو بچا سکتی ہیں۔ میں نے خود اپنے گھر کے ایک کمرے کو سردی سے بچانے کے لیے گرم کمبل اور موصلیت سے بند کیا ہے تاکہ وہ کمرہ زیادہ گرم رہے۔ اس کے علاوہ، گھر کے اندر حرارتی پیک یا گرم پانی کی بوتل کا استعمال فوری گرمائش دیتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو گھر کے سب افراد ایک کمرے میں جمع ہو کر جسمانی حرارت کا فائدہ اٹھائیں۔
سردی میں بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال
بچوں اور بزرگوں کو سردی میں خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان کی مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ میں نے کئی بار دیکھا ہے کہ سردی میں بچوں کو اضافی کپڑے پہنانا اور گرم مشروبات دینا ان کی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ بزرگوں کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ کم سے کم باہر نکلیں اور گھر میں ہی گرم رہیں۔ اگر ان میں کوئی بیماری ہو تو ان کا خاص خیال رکھیں اور ڈاکٹر سے رابطہ جاری رکھیں۔ ان کے لیے آرام دہ اور گرم جگہ فراہم کرنا سب سے اہم حفاظتی اقدام ہے۔
| احتیاطی تدبیر | وضاحت | میری ذاتی رائے |
|---|---|---|
| موصلیت کی تنصیب | دیواروں اور کھڑکیوں پر موصلیت لگانا گھر کو گرم رکھتا ہے | میرے گھر میں موصلیت کے بعد درجہ حرارت کافی بہتر ہوا |
| تہہ دار لباس | اندرونی اور بیرونی کپڑے پہن کر جسم کو سردی سے بچانا | میں ہمیشہ تھرمل انڈرویئر کے ساتھ موٹی جیکٹ پہنتا ہوں، بہت فائدہ مند |
| ہیٹنگ سسٹم کی دیکھ بھال | ہیٹر یا بوائلر کی جانچ اور صفائی ضروری ہے | مرمت کے بعد ہیٹنگ سسٹم نے اچھی کارکردگی دکھائی |
| گرم مشروبات | چائے، کافی یا مصالحہ دار دودھ سردی میں توانائی بڑھاتے ہیں | مسالے دار چائے میرے لیے سردی میں بہترین دوست ہے |
| ہنگامی کٹ | گرم کپڑے، کمبل، ٹارچ، اور ادویات ہنگامی حالات کے لیے ضروری ہیں | ہنگامی کٹ نے بجلی چلے جانے پر بہت مدد کی |
글을 마치며
سردیوں میں گھر کو گرم اور آرام دہ بنانا ہماری صحت اور خوشحالی کے لیے بہت ضروری ہے۔ موصلیت، مناسب لباس، اور صحیح خوراک کے ساتھ ساتھ ورزش اور پانی کی مناسب مقدار کا خیال رکھنا سرد موسم میں توانائی اور حفاظت کو یقینی بناتا ہے۔ ان آسان لیکن مؤثر طریقوں کو اپنانا آپ کے اور آپ کے اہل خانہ کے لیے سردی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یاد رکھیں، تیاری اور احتیاط ہی بہترین حفاظت ہے۔
알아두면 쓸모 있는 정보
1. دیواروں اور کھڑکیوں کی موصلیت گھر کی حرارت کو برقرار رکھنے میں سب سے مؤثر طریقہ ہے، خاص طور پر پرانی عمارتوں میں۔
2. تہہ دار لباس پہننے سے جسم کی حرارت محفوظ رہتی ہے اور سرد ہوا کے اثرات کم ہوتے ہیں، خاص طور پر تھرمل انڈرویئر کا استعمال بہت فائدہ مند ہے۔
3. سردیوں میں گرم مشروبات جیسے مسالے دار چائے یا دودھ جسم کو فوری گرمائش دیتے ہیں اور توانائی میں اضافہ کرتے ہیں۔
4. روزانہ ہلکی پھلکی ورزش خون کی گردش کو بہتر کرتی ہے اور سردی کے اثرات سے بچاتی ہے، خاص طور پر صبح کی سیر بہت مفید ہے۔
5. پانی کی مناسب مقدار پینا اور جلد کی حفاظت کے لیے موئسچرائزر کا استعمال سردی میں صحت کو برقرار رکھنے کے اہم عوامل ہیں۔
중요 사항 정리
گھر کی موصلیت اور ہیٹنگ سسٹم کی باقاعدہ دیکھ بھال سردیوں میں توانائی کی بچت اور آرام دہ ماحول کے لیے ضروری ہے۔ مناسب تہہ دار لباس اور ہاتھ، سر، پاؤں کی حفاظت جسمانی حرارت کو برقرار رکھتی ہے۔ غذائیت بخش گرم کھانے اور مشروبات توانائی کو بڑھاتے ہیں اور بیماریوں سے بچاتے ہیں۔ ورزش اور پانی کی مناسب مقدار صحت کو بہتر بناتی ہے اور جلد کی حفاظت کے لیے مناسب تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔ آخر میں، ہنگامی حالات کے لیے تیار رہنا اور خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کا خیال رکھنا سرد موسم میں حفاظت کی کلید ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: سردی میں گھر کو کیسے گرم رکھا جائے جب بجلی نہ ہو؟
ج: بجلی کی عدم دستیابی میں گھر کو گرم رکھنے کے لیے چند آسان اور مؤثر طریقے آزما سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، کھڑکیاں اور دروازے اچھی طرح سیل کریں تاکہ سرد ہوا اندر نہ آئے۔ میں نے خود پرانے تولیے اور موٹے پردے استعمال کیے ہیں، جو واقعی ٹھنڈی ہوا کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، موم بتی یا تیل کے چراغ کا استعمال محدود اور محفوظ طریقے سے کیا جا سکتا ہے تاکہ ہلکی روشنی اور تھوڑی حرارت ملے۔ اگر ممکن ہو تو گھر کے ایک کمرے کو ہیٹنگ کے لیے مخصوص کر لیں تاکہ آپ کی توانائی ضائع نہ ہو۔ کپڑے بھی کئی پرتوں میں پہنیں اور گرم پانی کی بوتل یا ہیٹنگ پیڈ کا استعمال کریں، یہ تجربے سے ثابت شدہ طریقے ہیں جو مجھے سردی میں خاص سکون دیتے ہیں۔
س: سردیوں میں جلد خشک اور خارش سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
ج: سردیوں میں جلد خشک ہونا اور خارش عام مسائل ہیں جن کا سامنا اکثر ہوتا ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ جلد کی حفاظت کے لیے روزانہ مناسب موئسچرائزنگ بہت ضروری ہے۔ خاص طور پر غسل کے بعد جلد پر فوری طور پر موئسچرائزر لگانا چاہیے تاکہ نمی برقرار رہے۔ قدرتی تیل جیسے ناریل یا بادام کا تیل بھی بہت مفید ہے، یہ جلد کو نرم اور ہائیڈریٹ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، گرم پانی سے زیادہ غسل کرنے سے گریز کریں کیونکہ یہ جلد کی قدرتی چکنائی ختم کر دیتا ہے۔ کپڑے بھی نرم اور سانس لینے والے ہوں، کیونکہ سخت یا مصنوعی کپڑے جلد کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ میں نے یہ طریقے آزما کر اپنی جلد کی حالت بہتر بنائی ہے اور آپ کو بھی یہی مشورہ دوں گا۔
س: سردی میں کھانے پینے کی کیا چیزیں زیادہ مفید ہوتی ہیں؟
ج: سردیوں میں کھانے پینے کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ آپ کی قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے اور جسم کو گرم رکھتا ہے۔ میں نے اپنے تجربے سے دیکھا ہے کہ گرم سوپ، دالیں، اور تازہ سبزیاں جیسے پالک اور گاجر بہت فائدہ مند ہوتی ہیں۔ مصالحے جیسے دار چینی، ادرک اور لونگ بھی جسم کو اندر سے گرم رکھتے ہیں اور خون کی گردش بہتر کرتے ہیں۔ چائے میں ادرک یا دار چینی ڈال کر پینا میرے لیے سردی میں توانائی کا ایک بہترین ذریعہ رہا ہے۔ اس کے علاوہ، پانی کی مقدار بھی کافی رکھیں کیونکہ سرد موسم میں اکثر لوگ پانی کم پیتے ہیں، جو جلد اور صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ان غذاؤں سے نہ صرف جسم گرم رہتا ہے بلکہ بیماریوں سے لڑنے کی طاقت بھی بڑھتی ہے۔






